پاکستان کے سسٹم میں بہت برائیاں ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہر آدمی سسٹم کو کوس رہا ہے۔ پاکستان تو 1947ء میں بنا مگر ہمارے سسٹم میں یہ برائیاں کب شامل ہوئیں؟ یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کیوں کہ تاریخ سے سیکھے بغیر ہم روشن مستقبل کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔

ہم رفتار پوڈ کاسٹ پر ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں جس میں ہم کچھ ماضی کی باتیں کریں گے۔ یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان میں کب کب غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی اقدامات اٹھائے گئے؟ اور اس پر بات کرنے کے لیے ہمارے ساتھ موجود ہیں نبیل صدیقی صاحب۔ آپ مختلف چینلز کے سی ای او رہ چکے ہیں، تاریخ پر خاصی گرفت رکھتے ہیں اور مطالعے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔

اس پوڈ کاسٹ میں آپ جانیں گے کہ کس طرح 1947 میں آزادی کے چند ہی دنوں میں غیر جمہوری طریقوں، جاگیرداری، میڈیا کو دبانے اور عوام کی خواہشات کو نظر انداز کرنے کے بیج بوئے گئے تھے۔ ہمارے مہمان نے ایسے عوامل پر روشنی ڈالی جو عام طور پر زیر بحث نہیں آتے، مثلاً صوبائی اسمبلیوں کو برطرف کیا گیا، اقتدار کے لیے وفاداریاں تبدیل کروائی گئیں، مخالفین کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے اور انتخابات میں دو دہائیوں سے زیادہ تاخیر بھی ہوئی اور اس کے باوجود عدلیہ نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ یہ پوڈ کاسٹ اس شرمناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ ایک ہی غیر اخلاقی اور غیر جمہوری ہتھکنڈے کئی نسلوں سے دہرائے جا رہے ہیں جس سے پاکستان کی ترقی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

شیئر

جواب لکھیں