پاکستان کوئی اور چیز بنائے یا نہ بنائے، کمیشن بنانے میں خود کفیل ہے اور مزے کی بات! آج تک جتنے بھی کمیشن بنے، ان کی رپورٹ کبھی بھی سامنے نہیں آئی اور اگر غلطی سے سامنے آئی بھی تو کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔

امام احمد رضا خان کو گزرے ہوئے ایک صدی سے زیادہ ہو چکی ہے مگر وہ آج بھی زندہ ہیں۔ اس آواز میں، جو برصغیر کی کئی مسجدوں سے تقریباً روزانہ بلند ہوتی ہے۔

لوگوں کو عروج ملتا ہے، زوال بھی آتا ہے لیکن اسے کبھی عبرت کے مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ عامر لیاقت حسین کا زوال اس حد تک پہنچا، لیکن پھر بھی کسی کو ان پر رحم نہیں آیا بلکہ بہت سوں نے آخری پیغام کو بھی سنجیدہ نہ لیا۔

مقبول تحاریر

تھیٹر کا آغاز سولہ سالہ عمر شریف نے بطور کامیڈین یا ایکٹر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ڈرامہ لکھنے والے رائٹر کے طور پر کیا۔ اور رائٹر بھی ایسا غصے والا جسے اپنی لکھی لائنوں پہ تنقید کا ایک لفظ برداشت نہیں۔

امریکا کے پاکستان سے تعلقات ہر آمر کے دور میں ہمیشہ بہتر رہے ہیں جبکہ جمہوری دور میں پاک امریکا تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں۔ دنیا میں جمہوریت کا چمپیئن بننے والا امریکا پاکستان میں آمریت چاہتا ہے۔

Raftar Bharne Do
Raftar Bharne Do