پاکستان میں مدارس کی کہانی دینی تربیت، غریب بچوں کی کفالت، اور طاقتور سیاسی و سماجی اثر و رسوخ سے جڑی ہے۔ یہ ادارے دین کا قلعہ ہیں یا انتہاپسندی کا مرکز؟ مدارس کے نظام، نصاب، اور کردار پر سوالات آج بھی زندہ ہیں، لیکن کیا ان کا کوئی حل ممکن ہے؟
آپ دیکھ رہے ہیں کچھ خاص
ہائی جیکنگ کی اس کہانی میں سب سے زیادہ تنقید جن کرداروں پر ہوتی ہے، وہ پائلٹ تھے۔ اگر وہ جہاز کو چھوڑ کر نہ جاتے تو شاید 21 قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھی۔ شاید!
معین اختر جیسی شخصیت کی زندگی کا احاطہ کسی ایک کتاب یا ویڈیو سے ممکن نہیں کیونکہ اُن جیسے فنکار کی عظمت میں نہ کسی تعریف سے اضافہ ہو سکتا ہے، نہ تنقید سے کمی آ سکتی ہے۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں کچھ کاروبار ایسے ہیں جن پر کبھی زوال نہیں آ سکتا۔ ان ہی کاروباروں میں…
بچپن میں ہم ریاضی کے مضمون میں ٹیبلز یاد کیا کرتے تھے، ٹو ٹو "زا" فور، ٹو تھری "زا" سِکس۔…
مسجد اللہ کا گھر ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں بادشاہ فقیر ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یعنی…
آج میں آپ کو پاکستان کا عدالتی نظام اور اس کے کچھ ایسے فیصلوں کی کہانی سناؤں گا، جنہوں نے جمہوریت کا گلہ گھونٹا اور آمریت کے لیے راستہ بنایا۔
سلطان راہی تو چلا گيا۔ اب تو نہ ویسے سنیما رہے، نہ وہ جوش و خروش، نہ ضیا، نہ بھٹو۔ لیکن مولا اب بھی زندہ ہے، اور تب تک زندہ رہے گا، جب تک مولا چاہے گا۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری 2012 میں آگ لگی نہیں، بلکہ سازش کر کے لگائی گئی۔ گرفتار مرکزی ملزم رحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنائی گئی۔
اسلم خان سے چوہدری اسلم۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے ایس پی، سی آئی ڈی اور انچارج اینٹی ایکسڑیمزم کرائم۔ یہ…
