آپ دیکھ رہے ہیں کچھ خاص

فیض احمد فیض نوجوانی میں کمیونسٹ تحریک سے وابستہ ہوئے لیکن وہ مذہب سے دور نہیں رہے۔ فیض احمد فیض نے حمد لکھی اور فارسی میں خوبصورت نعت بھی۔

تھیٹر کا آغاز سولہ سالہ عمر شریف نے بطور کامیڈین یا ایکٹر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ڈرامہ لکھنے والے رائٹر کے طور پر کیا۔ اور رائٹر بھی ایسا غصے والا جسے اپنی لکھی لائنوں پہ تنقید کا ایک لفظ برداشت نہیں۔

17 اکتوبر 1998 کی صبح حکیم محمد سعید اپنے مطب پر پہنچے تو ان پر اندھا دھند فائر کھول دیے گئے۔ کئی گولیاں حکیم سعید کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ شہادت کے وقت بھی حکیم محمد سعید روزے سے تھے۔

امام احمد رضا خان کو گزرے ہوئے ایک صدی سے زیادہ ہو چکی ہے مگر وہ آج بھی زندہ ہیں۔ اس آواز میں، جو برصغیر کی کئی مسجدوں سے تقریباً روزانہ بلند ہوتی ہے۔

لوگوں کو عروج ملتا ہے، زوال بھی آتا ہے لیکن اسے کبھی عبرت کے مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ عامر لیاقت حسین کا زوال اس حد تک پہنچا، لیکن پھر بھی کسی کو ان پر رحم نہیں آیا بلکہ بہت سوں نے آخری پیغام کو بھی سنجیدہ نہ لیا۔

معین اختر جیسی شخصیت کی زندگی کا احاطہ کسی ایک کتاب یا ویڈیو سے ممکن نہیں کیونکہ اُن جیسے فنکار کی عظمت میں نہ کسی تعریف سے اضافہ ہو سکتا ہے، نہ تنقید سے کمی آ سکتی ہے۔