کراچی میں آج پھر چشم فلک نے وہ افسوس ناک مناظر دیکھے جن کا تصور کسی مہذب ملک میں شاید ممکن ہی نہیں ہے۔ صنعتی علاقے سائٹ میں ایک فیکٹری میں جہاں ہر سال غریبوں میں زکات تقسیم کی جاتی ہے۔ اس سال بھی نقد رقم کی تقسیم کا سن کر سیکڑوں لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ ان میں بڑی تعداد میں عورتیں بچے اور بوڑھے افراد بھی شامل تھے۔

 ہر سال یہ معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹ جاتا تھا مگر اس سال بڑھتی غربت اور مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا ہجوم بہت زیادہ ہوگیا تھا۔ امداد کی تقسیم کا تیسرا دن تھا۔ پہلے دو دن بھی پچھلے برس کی نسبت زیادہ لوگ آئے تھ مگر جمعے کو ان کی تعداد سیکڑوں میں پہنچ گئی تھی۔  صرف ہزار دو ہزار روپے اور چند کلو آٹا لینے کے لیے صبح ساڑھے گیارہ سے لوگ قطاروں میں لگے ہوئے تھے۔ روزے کی حالت میں بھوکے پیاسے لوگ کئی گھنٹے تک رقم ملنے کا انتظار کرتے رہے۔ شام ساڑھے چار بجے تک رش بہت زیادہ ہوگیا،  لوگ ایک دوسرے کو دھکے دینے لگے۔

کراچی سانحہ
سانحہ کراچی، یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟ 1

ہجوم کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ڈنڈے مارے گئے۔ بھگدڑ مچی تو لوگ پیروں تلے کچلے گئے۔ جاں بحق ہونے والی ایک خاتون صابرہ بی بی کی بہن بھی ان کے ساتھ تھیں۔ رفتار سے گفتگو میں انھوں نے اس دردناک واقعے کی تفصیل بتائی۔

فیکٹری کے احاطے میں گندا پانی بھی بھرا ہوا تھا۔ سیوریج کا پائپ کسی نے جان بوجھ کر توڑا یا بھگدڑ میں ٹوٹا یہ واضح نہیں ہوسکا۔ یہ الزامات بھی سامنے آرہے ہیں کہ لوگوں منتشر کرنے کو لوہے کے ڈنڈوں سے مارا گیا اور پانی میں کرنٹ چھوڑا گیا۔ جاں بحق ہونے والے بہت سے افراد کے چہروں پر نشانات تھے جو بھگدڑ میں کچلے جانے کے سبب آئے تھے اور یہ بتارہے تھے کہ ان بے بس لوگوں نے صرف ہزار روپے کے لیے کس اذیت میں جان دی۔ مرنے والوں میں سات سال کی عمر کے بچے سے لے کر 65 سال کی بزرگ خاتون بھی شامل ہیں۔

جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینسیں سائرن بجاتی ہوئی پہنچیں۔ پانچ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

معروف سماجی رہنما ظفر عباس نے سوال اٹھایا کہ ان اموات کا ذمے دار کون ہے؟ انھوں نے کہا کہ افسوس ناک بات ہے کہ صرف ایک ہزار روپے کے لیے اتنے زیادہ لوگ موت کے منہ میں پہنچ گئے۔

حادثے میں اپنی والدہ کو کھونے والی خاتون نے شہباز شریف حکومت سے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔

کراچی سانحے پر پولیس کا موقف

پولیس کا موقف ہے کہ فیکٹری انتظامیہ نے انھیں راشن یا زکات کی تقسیم کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اس طرح کا پروگرام منعقد کرنے سے قبل پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کرنا اور اجازت لینا ضروری ہوتا ہے تاکہ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامات کیے جاسکیں۔

پولیس کے مطابق فیکٹری کے 7 افراد کو گرفتار کرکے فیکٹری سیل کردی گئی ہے۔ مالک عمرے پر گیا ہوا ہے۔ واپسی پر اسے بھی تفتیش میں شامل کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فیکٹری کا دورہ کیا اور واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے مطابق  وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے میں  جاں بحق ہونے والوں کے لیے 5 لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ واقعے کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں ہر کوئی نیکی کا کام کرنا چاہتا ہے۔ مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ نیکی کا کام کرتے وقت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو اطلاع دیں تاکہ انھیں مناسب سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔

اس سے قبل پنجاب میں بھی ایسے واقعات پیش آئے ہیں جہاں مفت آٹے کی تقسیم کے دوران بھگدڑ یا رش کی وجہ سے کئی لوگ موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں۔

شیئر

جواب لکھیں