گرین لائن، پیپلز بس سروس۔ منی بسیں، موئنجو دڑو دور کی کھٹارا بسیں۔ کراچی والوں کو ٹرانسپورٹ کے نام پر جو کچھ مل رہا ہے وہ کتنا ناکافی ہے اس کا بھانڈا ورلڈ بینک نے کئی سال پہلے ہی پھوڑ دیا تھا۔ عالمی بینک کی 2019 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم میں 15 ہزار بسیں ہونی چاہییں۔ مگر آج چار سال بعد بھی کراچی میں کتنی بسیں چلتی ہیں؟ صرف 1 ہزار انتیس ۔ ان میں پیپلز بس سروس کی 240، گرین لائن کی 100 اور پرائیوٹ سیکٹر کی طرف سے چلائی جانے والی 689 بسیں شامل ہیں جن میں سے اکثر غیرمعیاری ہوتی ہیں۔ اس پر بھی ان میں شہریوں کو ٹھونس ٹھونس کر اور چھتوں پر بٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ یا پھر شہری چنگچی، رکشوں، آن لائیک رائیڈ استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کا ذمے دار ظاہر ہے پیپلزپارٹی ہے جس نے 35 سال سندھ پر حکومت کی مگر کراچی جو سندھ کا 70 فیصد ریونیو دیتا ہے اسے کوئی اچھا ٹرانسپورٹ سسٹم نہیں دے سکی۔ پیپلزپارٹی کے صوبائی وزرا ہر دور میں کراچی کے شہریوں کو لارے لپے دیتے رہے۔ 2019 میں ورلڈ بینک کی رپورٹ آنے کے بعد بھی کراچی والوں سے سوتیلوں جیسا سلوک جاری رہا۔ خدا خدا کرکے 2021 بائیس میں پیپلزبس سروس کی 240 بسیں آئی مگر اس سے کیا ہوتا۔ یہ تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ثابت ہوئیں۔ 500 مزید بسیں لانے کے منصوبے پر بھی کام ہورہا ہے۔مگر ظاہر ہے بات اس سے بھی نہیں بنے گی۔ کیونکہ اس کے باوجود کراچی میں تقریبا تیرہ ہزار سے زیادہ بسوں کی کمی رہے گی۔ ایک وقت تھا جب کراچی میں بارہ ہزار کے قریب بسیں اور منی بسیں چلتی تھیں مگر پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، سندھ پولیس، ٹریفک پولیس اور صوبائی حکام کے رویوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹر یہ شعبہ چھوڑتے جارہے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے حوالے سے نگراں وزیر برائے منصوبہ بندی یونس ڈاگھا کو محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے بریفنگ بھی دی ہے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ بسوں کی کمی پوری کرنے کے لیے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کی جائیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹروں کو بسیں حاصل کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے۔ یہ بسیں قسطوں کی مکمل ادائیگی تک سندھ حکومت کے نام پر رہیں گی۔ خیر منصوبہ تو اچھا ہے اب دیکھتے ہیں اس پر کب اور کیسے عمل ہوتا ہے۔

شیئر

جواب لکھیں