ایسا لگ رہا تھا راولپنڈی کی 'المشہور' پچ سنچورین پہنچ گئی ہے۔ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے دوسرے میچ میں اتنے ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ ٹوٹے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا مقابلہ یاد آ گیا۔ کیونکہ اس میچ کا تقریباً ری پلے ہمیں آج انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی دیکھنے کو ملا۔

ویسٹ انڈیز کا دورۂ جنوبی افریقہ - دوسرا ٹی ٹوئنٹی

جنوبی افریقہ بمقابلہ ویسٹ انڈیز

‏26 مارچ 2023

سپر اسپورٹ پارک، سنچورین، جنوبی افریقہ

نتیجہ: جنوبی افریقہ 6 وکٹوں سے جیت گیا

Raftar Bharne Do ویسٹ انڈیز258-5
جانسن چارلس118 (46)
کائل میئرس51 (27)
جنوبی افریقہ باؤلنگامرو
مارکو یانسن40523
وین پارنیل40432
Raftar Bharne Do جنوبی افریقہ(ہدف: 259)259-4
کوئنٹن ڈی کوک100 (44)
ریزا ہینڈرکس68 (28)
ویسٹ انڈیز باؤلنگامرو
روومین پاول20271
اوڈین اسمتھ20361

اس میچ نے ریکارڈ بک میں بہت تبدیلیاں کی ہیں، جن میں پہلی تھی ویسٹ انڈین بیٹسمین جانسن چارلس کی شاندار سنچری۔ انھوں نے صرف 39 گیندوں پر اپنی ہنڈریڈ مکمل کی اور یوں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی ویسٹ انڈين بیٹسمین کی جانب سے تیز ترین سنچری بنا ڈالی۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ جنوبی افریقہ کے ڈیوڈ ملر کے پاس ہے۔ انھوں نے اکتوبر 2017 میں بنگلہ دیش کے خلاف پوچفیسٹروم میں صرف 35 گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔ صرف دو مہینے بعد بھارت کے روہت شرما نے سری لنکا کے خلاف اس ریکارڈ کر برابر کیا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل: تیز ترین سنچریاں

بلے بازگیندیںبمقابلہبمقامبتاریخ
ڈیوڈ ملر (جنوبی افریقہ)35بنگلہ دیشپوچفیسٹروم‏29 اکتوبر '17
روہت شرما (بھارت)35سری لنکااندور‏22 دسمبر '17
سدیش وکرماسیکرا (چیک جمہوریہ)35ترکیالفوف کاؤنٹی‏30 اگست '19
شیوکمار پریالوار (رومانیہ)39ترکیالفوف کاؤنٹی‏29 اگست '19
ذیشان کوکی خیل (ہنگری)39آسٹریالوئر آسٹریا‏5 جون '22
جانسن چارلس (ویسٹ انڈیز)39جنوبی افریقہسنچورین‏26 مارچ '23

ان دونوں کے بعد جانسن چارلس کی یہ ہنڈریڈ قابلِ ذکر کرکٹ ملکوں میں یہ دوسری تیز ترین سنچری بن گئی ہے۔ اس اننگز کے علاوہ کائل میئرس کے 51 اور آخر میں روماریو شیپرڈ کی دھواں دار 41 رنز کی اننگز تھی جو ویسٹ انڈیز کو 258 رنز تک لے گئی۔ لیکن کس نے سوچا تھا کہ یہ رنز بھی جنوبی افریقہ کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔

ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ نے پاور پلے میں ہی 102 رنز بنا لیے تھے، جو کسی بھی قابلِ ذکر ٹیم کے ابتدائی چھ اوورز میں بنائے گئے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

میزبان جنوبی افریقہ نے کوئنٹن ڈی کوک کی 44 بال ہنڈریڈ، ریزا ہینڈرکس کے 28 گیندوں پر 68 رنز اور آخر میں کپتان آئیڈن مارکرم کے 21 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 38 رنز کی مدد سے یہ ٹارگٹ 19 ویں اوور ہی میں حاصل کر لیا۔ جی ہاں! یہ ہے تاریخ میں کامیابی سے حاصل کیا گیا سب سے بڑا ٹارگٹ۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل: کامیابی سے حاصل کردہ سب سے بڑا ہدف

ہدفبمقابلہبمقامبتاریخ
جنوبی افریقہ259ویسٹ انڈیزسنچورین‏26 مارچ '23
آسٹریلیا244نیوزی لینڈآکلینڈ‏16 فروری '18
بلغاریہ243سربیاسوفیا‏26 جون '22
ویسٹ انڈیز232جنوبی افریقہجوہانسبرگ‏11 جنوری '15
انگلینڈ230جنوبی افریقہممبئی‏18 مارچ '16

اس میچ میں دونوں ٹیموں نے پہلی بار 250 رنز کا سنگِ میل بھی عبور کیا۔ یوں تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 500 سے زیادہ رنز بنے۔  

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل: ایک میچ میں سب سے زیادہ رنز

بمقابلہرنزوکٹیںبمقامبتاریخ
جنوبی افریقہویسٹ انڈیز5179سنچورین‏26 مارچ '23
بھارتویسٹ انڈیز48910لوڈرہل‏27 اگست '16
نیوزی لینڈآسٹریلیا48811آکلینڈ‏16 فروری '18
بلغاریہسربیا4888سوفیا‏26 جون '22
افغانستانآئرلینڈ4729دہرہ دون‏23 فروری '19

جنوبی افریقہ ویسٹ انڈیز دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں کُل 35 چھکے بھی لگے، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس میں سے بھی 22 چھکے تو ویسٹ انڈیز کے تھے، جو کسی ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکے ہیں۔ بہرحال، جنوبی افریقہ ان کے مقابلے میں کافی کم 13 چھکے لگا کر بھی جیت گیا۔

دیکھیں تو یہ ایک ناقابلِ یقین میچ لگتا ہے، لیکن نجانے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایسے اسکور، ایسے چَيز اب معمول بن جائیں گے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

شیئر

جواب لکھیں