‏26 دسمبر 1994، یہ اسلام آباد کی ایک سرد اور دھندلی صبح ہے۔ نیلے رنگ کی ایک اسٹارلٹ کار شہر کی مرکزی سڑک پر رواں دواں ہے۔ کسی بھی آنے والے خطرے سے بے نیاز، اپنی منزل کی جانب رواں دواں۔ مگر پھر اچانک ایک موڑ آتا ہے، جو زندگی کا آخری موڑ ثابت ہوتا ہے۔

اس ننھی سی گاڑی کی ایک بس کی ٹکر ہو جاتی ہے۔ ایک ہولناک تصادم ہوتا ہے، ایسا حادثہ پیش آ جاتا ہے، جسے اردو ادب کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سانحہ کہنا چاہیے۔ دو جانیں چلی گئیں اور شام کو پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک خبر چلتی ہے، ایسی خبر، جس نے لاکھوں لوگوں پر سناٹا طاری کر دیا۔

یہ ایک عظیم شاعرہ کو موت کا اعلان تھا۔ موت اُسے اتنی بے رحمی سے اور اتنا اچانک آ دبوچے گی؟ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ آواز دنیا سے اٹھ گئی جس کا ہر کوئی پرستار تھا۔ ہر وہ شخص جسے تھوڑی بہت اردو سمجھ آتی تھی، اس نام کو جانتا پہچانتا تھا۔ وہ شاعرہ ہی ایسی تھی، تمام تر مشرقی خوبصورتی، رکھ رکھاؤ، تہذیب اور سلیقے سے نوازی ہوئی۔ اِس سے بڑھ کر جو ٹیلنٹ، ذہانت، بہادری، خود اعتمادی اور فن اسے عطا ہوا، وہ اس کی شخصیت کو چار نہیں آٹھ آٹھ چاند لگاتا تھا۔ جب بولتی تو باتوں سے پھول جھڑتے، لکھتی تو لفظوں سے خوشبو آتی۔ ایسا میٹھا، رسیلا ا ور دھیما لہجہ کہ سننے والوں کا دل چاہتا وہ بولتی رہے اور وہ سنتے رہیں، اور وہ لکھتی رہے اور ہم پڑھتے رہیں۔

ہم بات کر رہے ہیں مقناطیسی کشش رکھنے والی باوقار شاعرہ ’’پروین شاکر‘‘ کی، جنہیں کسی نے شاعروں کی ملکہ کہا تو کسی نے خوشبو، موسموں، ہواؤں اور محبت کی شاعرہ کا نام دیا۔ دسمبر کی اس صبح وہی تھیں، جو حادثے میں اپنے ڈرائیور سمیت چل بسیں۔

پروین شاکر نے پہلی بار نوجوان لڑکیوں کے ایسے نازک جذبوں کو بے خوفی اور بہادری سے بیان کیا، جنہیں ہمارے یہاں لڑکیاں تنہائی میں بھی زبان پر لاتے ہوئے گھبراتی ہیں۔ اُن کے بارے میں آج بھی کہا جاتا ہے کہ جس طرح انہوں نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی، کچی عمر کی لڑکیوں کے خوابوں اور امنگوں کی ترجمانی کی، اس کی مثال نہ پہلے ملتی تھی اور نہ شاید آئندہ ملے گی۔

حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے جاناں!
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں

پروین شاکر کون؟

یہ ‏ 24 نومبر 1952 ہے۔ سحری کا وقت ہے، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی ہے جب کراچی کے لیڈی ڈفرن اسپتال میں سید شاکر حسین زیدی کے ہاں دوسری بچی نے جنم لیا، نام رکھا گیا پروین بانو۔ اُس وقت کوئی سو چ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ بچی بڑ ی ہو کر اشعار کی ایک ایسی کہکشاں سجائے گی، جس کے ستاروں کا جھرمٹ دُور ہی سے پہچانی جائے گی، جس کی روشنی عام ستاروں سے بالکل الگ ہوگی۔

پروین شاکر نے عشق و محبت کے اظہار کے لیے معاشرے میں موجود تمام روایتی بت پاش پاش کر دیے۔ اس بات کی ذرا پروا نہیں کی کہ کوئی کیا کہے گا؟ اپنے دور کے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی نے پروین شاکر کے بارے میں لکھا،

پروین شاکر ایسی کھری اور سچی لڑکی ہے جس نے جو سوچا، جو محسوس کیا بلا جھجک کہہ ڈالا، پروین نے نہ خود کو دھوکا دیا اور نہ اپنے پڑھنے والوں کو۔

پروین کے والد سید شاکر حسین اور والدہ افضل النسا کا تعلق بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔ یہ خاندان قیام پاکستان سے دو سال پہلے بہتر روزگار کی تلاش میں کراچی آ گیا تھا۔ شروع میں اس خاندان کی رہائش چاکیواڑا میں تھی۔ ہر مڈل کلاس شخص کی طرح پروین کے والد کو بھی گھر بار چلانے کے لیے کافی مشکلات اٹھانا پڑیں۔ بڑی کوشش کے بعد انھیں محکمہ ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف میں کلرک کی نوکری ملی۔ زندگی کی گاڑی بس کسی نہ کسی طرح چلتی رہی۔

پروین کا بچپن

اس گھرانے میں جب پروین تھوڑی سی بڑی ہوئیں تو گھر والوں کو اندازہ ہونے لگا وہ عام لڑکیوں جیسی بالکل نہیں۔ اسے گڑیا سے کوئی لگاؤ نہیں تھا، نہ اسے کھلونے پسند تھے۔ اسے تو پرندے اور جانور پالنا اور اُن سے باتیں کرنا اچھا لگتا تھا۔ بار ش تو گویا اس کی کمزوری تھی، برسات کے دوران بارش کی آواز اور کچی مٹی کی خوشبو اسے بہت بھاتی تھی۔

قدرت نے بھی ہمیشہ پروین اس کی خواہش کا احترام بھی کیا۔ جب پیدا ہوئی تب بھی رم جھم پھوار پڑ رہی تھی اور جب اسے قبر میں اتارا جا رہا تھا تب بھی بارش کی بوندیں اُس کے کفن کو بھگو رہی تھیں اور اس کی تازہ تازہ قبر سے کچی مٹی کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔

پروین شاکر کی والدہ بتاتی ہیں کہ وہ بچپن ہی سے بڑی ذہین تھی۔ چیزوں کو غور سے دیکھنے اور انھیں سمجھنے کی کوشش کرتی تھی۔ والد نے بھی شاید اس چھپی صلاحیت کو پہچان لیا تھا، اس لیے وہ پروین کی ضروریات کا بڑا خیال رکھتے۔ چونکہ خود بھی شاعری کرتے تھے، اس لیے بیٹی کے شعری ذوق کو دیکھتے ہوئے پروین اور نسرین دونوں بیٹیوں کو حسن عسکری عظیم آبادی کی تربیت میں دے دیا۔ وہ پروین کی نانی کے پھوپی زاد بھائی تھے، پیشے کے اعتبار سے ہومیو پیتھ تھے اور علم و ادب سے بڑا لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے دونوں بہنوں کی شعری تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا، لیکن شہرت پروین ہی کے حصے میں آئی۔

پروین شاکر کو اپنی زندگی میں کسی نے صرف پروین کہہ کر پکارا تو کسی نے پارو، کوئی پارہ کہتا تو کوئی بانو سے مخاطب کر کے پیار کا اظہار کرتا رہا، لیکن خود جب پروین نے قلم سنبھالا تو اپنے لیے ’’بینا‘‘ تخلص کا انتخاب کیا مگر جلد ہی اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کا نام شاکر لکھنا شروع کر دیا اور آخری دم تک پروین شاکر ہی رہیں۔

بہرحال، والدہ بتاتی تھیں کہ پارو بچپن میں اگر ضد پر اڑ جاتی تو اپنی بات منوا کر ہی چھوڑتی۔ وہ الگ بات کہ جب جوان ہوئی تو اس کی ایک ضد ایسی تھی کہ والدین اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ اپنی ہر ضد منوانے والی پارو کو اپنے دل پر پتھر رکھنا پڑ گیا۔ یہ ایسا پتھر تھا جس کے بوجھ نے اسے نڈھال کر دیا۔ یہ بات کسی اور نے نہیں خود پروین نے اپنے الفاظ میں بیان بھی کر دی ہے،

چلنے کا حوصلہ نہیں، رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اس تھکا دینے والے سفر سے آگے چل کر پردہ اٹھائیں گے لیکن ابھی بات پروین کے بچپن کی۔

والدہ کے مطابق بچپن ہی سے پروین بہت حساس تھی، اس کا کوئی پرندہ یا پالتو جانور مر جاتا تو دیر تک روتی رہتی، پھر اسے باقاعدہ زمین میں دفن کرتی کہ کہیں اسے جانور نہ کھا جائیں۔

پروین کو گھریلو کام کاج کرنا بالکل بھی پسند نہیں تھا، اس کا تو بس ایک ہی شوق تھا بلکہ جنون کہیے کہ وہ سارا دن کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ پڑھتی رہتی۔ ایک اور چیز بھی اسے بہت پسند تھی، وہ تھی اپنی پسندیدہ ذاکرہ بتول ترابی کے انداز میں نوحے اور مرثیے پڑھنا۔ پکے شیعہ گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے پروین کی والدہ بچپن میں اسے مجلسوں میں باقاعدگی سے اپنے ساتھ لے جاتیں۔ پروین مجلس سے گھر آنے پر محلے کے بچوں کو اکٹھا کرتی اور انہیں جمع کر کے خود ذاکرہ بن جاتی اور دیر تک نوحے اور مرثیے پڑھتی رہتی۔

بچپن ہی سے پروین کی شخصیت اتنی پیاری، من موہنی اور دلکش تھی کہ والدہ جب بھی تیار کرتیں، انہیں ڈر لگا رہتا کہ اسے نظر نہ لگ جائے۔

پروین نے ابتدائی تعلیم رائزنگ سن اسکول اور رضویہ گرلز ہائی اسکول سے حاصل کی۔ اسی اسکول میں اپنی ذہانت سے ٹیچرز کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ کبھی تقریری تو کبھی نعتیہ مقابلے جیتے۔ اچھے نمبروں سے پاس ہونا تو اس کی پہچان تھا۔ پڑھائی میں اس کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پروین کی بڑی بہن نسرین اس سے دو کلاس آگے تھی مگر پروین ڈبل پروموشن لے کر اپنی بڑی بہن کی کلاس فیلو بن گئی۔ اسی اسکول کی ایک ٹیچر نے پروین شاکر کے بارے میں ایک پیش گوئی لکھ کر کی تھی۔ وہ پیش گوئی کیا تھی؟ کیا وہ سچ ثابت ہوئی؟ یہ بھی آپ کو آگے چل کر بتائیں گے، ابھی چلتے ہیں نو عمر پروین شاکر کی زندگی کے ایک اہم واقعے کی طرف!

جوانی اور شاعری

پروین جب سولہویں سال میں تھی تو اسے سینئر کلاس کے ایک لڑکے سے پیار ہو گیا۔ پتا نہیں اسے پیار کہنا بھی چاہیے یا نہیں، لیکن پروین کی کلاس فیلوز اور قریبی سہیلیوں میں اس بارے میں کھسر پھسر ضرور سنائی دیتی تھی۔ مگر شاید یہ جوانی کی ایک لہر تھی جو جلد ہی معمول پر آگئی۔ معروف ادیب عرفان جاوید نے اپنی کتاب ’’سرخاب‘‘ میں لڑکپن کی اس محبت کو ناکام مجنونانہ سا عشق کہہ کر پکارا ہے۔

اسی کتاب میں انھوں نے پروین شاکر کی ذہانت کا ایک واقعہ بھی لکھا ہے۔ جب وہ سر سید گرلز کالج کراچی میں پڑھ رہی تھیں، ان دنوں مختلف کالجز کی لڑکیوں کے درمیان شعری مقابلہ ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پروین پوری طرح شاعری سے واقف نہ تھی، مگر نہ صرف مقابلے میں حصہ لیا بلکہ پہلا انعام بھی جیت لیا۔ یہ نظم ایسی تھی جس سے کالج کی ہر لڑکی کو متوجہ کر لیا۔ یہی سر سید کالج تھا، جہاں پروین کو عرفانہ عزیز جیسی مہربان استاد میسر آئیں۔ انھوں نے پروین کی شخصیت کے ساتھ ان کی شاعری کو نکھارنے میں بھی بڑی مدد کی۔

پروین نے ایک انٹرویو میں خود بتایا کہ عرفانہ عزیز اور احمد ندیم قاسمی کے علاوہ انہوں نے کبھی کسی کو اپنی شاعری کا ایک لفظ اِدھر اُدھر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ عرفانہ عزیز ہی تھیں جنہوں نے پروین کو یاور مہدی سے متعارف کروایا۔ ان دنوں یاور مہدی ریڈیو پاکستان کراچی سے طلبا کا پروگرام ’’یونیورسٹی میگزین‘‘ کیا کرتے تھے۔ اب پروین اس پروگرام میں باقاعدگی سے حصہ لینے لگیں۔

گزرنے والا ہر دن پروین کو شہرت کی طرف لے جاتا ہوا صاف نظر آرہا تھا۔ میٹھی رسیلی زبان اور ہلکورے لیتا دھیمہ لہجہ اور سب سے بڑھ کر ایک سے ایک انوکھا اور دل چھو لینے والا خیال، اب وہ لوگوں کو بھانے لگی تھی۔

ریڈیو ہی کے دنوں میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس سے ریڈیو کا پورا عملہ پروین کی شاعرانہ صلاحیتوں کا گرویدہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ ایک دن یاور مہدی نے شہر کے کئی شعرا اور طالب علموں کو جمع کیا۔ سب کو ایک مصرع طرح دیا اور انہیں تین گھنٹوں کا وقت دے کر غزل لکھنے کا چیلنج دیا۔ پروین شاکر کے بقول انہیں فی البدیہہ شاعری لکھنا کبھی پسند نہیں رہا، شاعری کوئی مشینی چیز نہیں، یہ تو حالات و واقعات اور محسوسات کا نام ہے۔ مگر پھر بھی انہوں نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا کمرہ خالی ہونے لگا۔ صرف پانچ لوگ باقی رہ گئے، جن میں یاور مہدی، پروین شاکر اور تین لوگ اور تھے۔ پھر وہی ہوا پروین شاکر نے بازی مار لی۔

اس دور میں پروین شاکر کو مختلف ادبی شخصیات سے ملنے جلے کا بھی موقع ملا جنہوں نے ان کے اعتماد میں اور اضافہ کیا۔ خاص طور پر ابن انشا کے ساتھ پروین کا پروگرام بہت زیادہ پسند کیا گیا۔

کہتے ہیں دوسروں کی چوٹ کا درد ایک حد تک ہی محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن چوٹ کی اصل شدت کا تب پتہ چلتا ہے جب انسان کے اپنے وجود پر زخم لگے۔ شاعروں کی زندگی ویسے بھی بڑی tragic ہوتی ہے، پروین شاکر کی زندگی میں بھی وہ لمحہ آ گیا۔

ناکام محبت

پروین اب حقیقی محبت کی نرم گرم آنچ میں سلگنے لگی تھیں۔ ایک عزیزہ نے انھیں سرکاری عہدے پر موجود ایک شخص کے لیے بے قرار ہوتے دیکھا تو سمجھانے آ گئیں۔ اسے منع کیا کہ یہ آگ کا دریا ہے، اس میں ڈوب کر جانا پڑے گا مگر پروین تھیں سدا کی ضدی۔ پھر الہڑ جوانی اور دنیا فتح کر لینے کا زعم بھی، پروین کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہ تھی۔ دونوں جانب سے قول و قرار ہو نے لگے، وہی قسمیں کھائی جانے لگیں جو عاشق ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ سے کھاتے آئے ہیں۔

پروین کا محبوب ایک تو اچھے عہدے پر برسر روزگار تھا، اوپر سے اچھی شکل و صورت اور قد کاٹھ کا مالک، ایک ذہین شخص تھا۔ پروین خواب بُنتی گئی اور اس کا پریمی اس کے خوابوں میں رنگ بھرنے کے وعدے کرتا گیا۔ بات اب رشتے تک جا پہنچی لیکن نتیجہ پروین کی توقع کے بالکل برخلاف نکلا۔

پروین کے والدین کٹر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ پروین کا محبوب اور اس کا خاندان سُنی العقیدہ۔ لڑکے نے پروین کا ہاتھ مانگنے کے لیے اپنے والدین کو بھیجا مگر جب بات مسلک پر آئی تو پروین کے والدین بھڑک اٹھے بلکہ انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی باتیں سنانا شروع کر دیں۔ اسے کہا گیا کہ

تم نے جرات کیسے کی کہ اپنا رشتہ خود طے کرو اور اس کے لیے بھی سنی لڑکا؟

والد نے ’’ناممکن‘‘ کہہ کر لڑکے والوں کو گھر سے رخصت کر دیا بلکہ یوں کہیے نکال باہر کیا۔ اس واقعے نے پروین کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ وہ شیشے کی طرح ٹوٹ کر بکھر گئیں۔

محبت میں سماج کی رکاوٹوں کا نتیجہ اکثر بغاوت کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ پروین نے بھی معاشرتی رویوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ٹھان لی۔ پروین شاکر کے اندر کی شاعرانہ روح نے اب تڑپ اٹھی تھی اور پھر بقول احمد ندیم قاسمی، جو محسوس کیا اسے پوری بہادری اور بے خوفی سے اپنی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ کی صورت میں بکھیر دیا۔

خوشبو 1976 میں شائع ہوئی، تب پروین کی عمر صرف 24 سال تھی۔ ٹھاٹھیں مارتے، انگڑائیاں لیتے جذبوں کی یہ خوشبو ایسی پھیلی کہ خود پروین شاکر کو بھی اس پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اپنی پہلی ہی کتاب پر انہیں پاکستان کے سب سے اعلیٰ ادبی ایوارڈ آدم جی سے نوازا گیا جو ایک غیر معمولی بات تھی۔

خوشبو نے دنیائے ادب میں ہی نہیں گھر گھر دھوم مچا دی، بلکہ یوں کہیے، پڑھنے والوں اور پڑھنے والیوں کو دیوانہ بنا کر رکھ دیا۔

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اُس کی دُلہن سجاؤں گی

آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
رات بھر جاگی ہوئی جیسے دلھن کی خوشبو
پیراہن میرا مگر اُس کے بدن کی خوشبو
اس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو

ایک منفرد شاعرہ

بستر کا ذکر تو اردو شاعری میں ممنوع تھا اور وہ بھی عورت کے منہ سے؟ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑکی نے عشق و محبت کی نزاکتوں بلکہ وحشی لمحوں کو بھی بلا خوف و خطر بیان کیا۔ وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھتے ہوئے بھی، ’’قبول ہے‘‘ کے الفاظ تک ادا کرتے ہوئے لڑکیوں کے ہونٹ کانپتے تھے۔

بہرحال، یوں ’’خوشبو‘‘ کے ساتھ ہی آٹھویں کلاس کی ٹیچر کی لکھی ہوئی پیش گوئی بھی سچ ہو گئی۔ انھوں نے لکھا تھا،

وہ وقت آ کر رہے گا جب یہ طالبہ معروف ادیبہ اور شاعرہ کہلائے گی۔

ویسے پروین شاکر کے بارے میں دلّی کے ایک جوتشی نے بھی پیش گوئی کی تھی، ایسی پیش گوئی جس نے پروین کو زندگی بھر بے چین رکھا۔ مگر کیا وہ سچ ثابت ہوئی؟ یہ آگے چل کر بتائیں گے مگر ابھی بات کرتے ہیں پروین کے پہلے مجموعہ کلام ’’خوشبو‘‘ کی، جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا تھا۔

تب اس کتاب کی ہزاروں کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور آج تک ہو رہی ہیں۔ کہتے ہیں پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ابن صفی کی عمران سیریز نوجوانوں کے تکیے کے نیچے ہوتی تو لڑکیوں کے تکیو ں کے نیچے سے پروین شاکر کی ’’خوشبو‘‘ ملتی۔

پروین بنی دُلہن

پروین شاکر بچپن ہی سے معصوم سی گڑیا لگتی تھیں۔ جب رشتے دار پروین کے گھر آتے تو بے اختیار ان کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ تب ایک ایسے ہی رشتے دار تھے جو پروین کو اپنی بہو بنانا چاہتے تھے، بات طے بھی کر دی گئی، سمجھیں ایک طرح سے منگنی ہو گئی۔ مگر کچھ وقت گزرا تو لڑکا تعلیم کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گیا۔ پروین تو جیسے پیدا ہی آگے نکلنے کے لیے ہوئی تھی۔ اس لیے دونوں خاندانوں کو احساس ہو گیا کہ پروین اور لڑکے کا جوڑ اب برابر کا نہیں رہا۔ یوں اس منہ زبانی منگنی کو باہمی رضامندی سے ختم کر دیا گیا۔

پھر پروین کی پہلی کتاب ’’خوشبو‘‘ کے چرچے ہو گئے۔ ہر طرف اُن کا نام تھا مگر پروین اپنے دل و دماغ سے لڑ رہی تھیں۔ محبوب کے کھو جانے کا دکھ انھیں کاٹ رہا تھا۔ انھیں اپنا وجود بے معنی اور بے وقعت سا محسوس ہوتا۔ ایسا لگتا گویا روح کا پرندہ گھسی پٹے رسم و رواج کے پنجرے میں بند پھڑ پھڑا رہا ہے۔ جبکہ وہ ایک آزاد پنچھی ہے، جو اپنی مرضی کی فضاؤں اور ہواؤں میں اڑنا چاہتی تھی۔ مگر وہ کیا کرتی؟ زمانے کے رسم و رواج نے پروین کے تمام پر کاٹ ڈالے تھے۔

درد اتنا بڑا تھا کہ وہ بیمار پڑ گئیں، حالت یہاں تک جا پہنچی کہ اسپتال داخل کرانا پڑ گیا۔ یہیں سے پروین شاکر کی زندگی اب ایک نیا موڑ لینے والی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ کوئی شخص مسیحا بن کر آئے اور ان کے اندر سلگنے والے الاؤ کو اپنی محبتوں اور چاہتوں کی برسات سے ٹھنڈا کر دے۔ کہتے ہیں نا کہ کوئی گھڑی قبولیت کی بھی ہوتی ہے اور شاید وہ گھڑی اب آنے والی تھی۔

والدہ کی ماموں زاد بہن کا بیٹا نصیر علی ملٹری میں ڈاکٹر تھا۔ وہ کراچی آیا ہوا تھا جب پروین کے والدین نے نصیر سے رابطہ کیا اور اسے پارو کی بیماری سے آگاہ کیا۔ نصیر نے پروین کو پہلے بھی دیکھ رکھا تھا، یہ بھی جانتا تھا کہ پروین شاعری کرتی ہے لیکن وہ پروین کی شاعری کے معیار اور اس کی شہرت سے زیادہ واقف نہیں تھا۔

نصیر علی نے لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کر رکھا تھا۔ اس کا خاندان 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے بعد کراچی منتقل ہوا تھا۔ پھر نصیر اسپتال میں پروین کی عیادت کے لیے آنے لگتا ہے اور ان سے ان کی دلچسپی کے موضوع پر باتیں کرتا ہے۔ بے تکلفی کچھ بڑھی تو وہ کمرے میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے پروین کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیتا اور پھر اٹھانا بھول جاتا۔ بظاہر وہ اس کا بخار چیک کرتا لیکن پروین کا لمس اسے مسحور کر دیتا تھا۔ وہ یہ بھی جان گیا تھا کہ جیسے ہی اس کا ہاتھ پروین کے ماتھے کو چھوتا ہے، پروین کے چہرے پر چھائی اداسی غائب ہو جاتی ہے۔ ان کے چہرے کی زردی سرخی میں بدلنے لگتی ہے، بے آرام چہرہ آسودہ اور پرسکون سا ہو جاتا ہے۔ شاید یہی وہ لمحات ہوں گے کہ پروین شاکر کو کہنا پڑا،

اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی

نصیر علی جلد ہی جان گیا پروین کو جسمانی نہیں روحانی روگ ہے۔ اس نے پروین کے دکھ جاننے کی کوشش کی لیکن پروین بہت ذہین تھیں، وہ نصیر علی کی اس میں دلچسپی کو اچھی طرح نوٹ کر رہی تھی۔ وہ اپنی ٹوٹی بکھری محبتوں کا اشتہار لگوانے کو تیار نہیں تھیں۔ ہاں! یہ ضرور تھا کہ نصیر علی انھیں اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہو جاتیں کہ یہ مہربان سا نوجوان اس کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے۔ جلد ہی اس نے پروین سے اس کی مرضی پوچھی، پروین نے ہاں کر دی۔

نصیر نے اپنے گھر والوں کو رشتہ مانگنے پروین کے گھر بھیج دیا۔ یہی وہ دن تھے جب پارو کے گھر والے اس کے لیے کسی لڑکے کی تلاش میں تھے، ایسا لڑکا جو کامیاب ہو، خیال رکھنے والا ہو اور ہاں! ’’شیعہ‘‘ ہو۔ نصیر علی ہر معیار پر پور ا اترتا تھا۔ تو ہاں کہہ دی گئی اور اکتوبر 1976 میں نارتھ ناظم آباد کے الحسن میرج ہال میں پروین کی شادی ہو گئی۔

سرخ قمیض، سرخ دوپٹا اور سبز پاجاما پہنے پروین دُلہن بنی، واقعی چاند سی حسین لگ رہی تھیں۔ پروین کا نصیر سے شادی کا فیصلہ اپنے والدین کی خوشی کے لیے تھا۔ نصیر سے واقعی محبت ہو گئی تھی یا پرانی محبتوں کے زخموں کو بھرنے کی ایک کوشش تھی؟ جو کچھ بھی تھا پروین کو کہیں نہ کہیں یہ احساس ضرور تھا کہ اس جوئے میں مات بھی ہو سکتی ہے اور جیت بھی

اس شرط پر کھیلوں گی پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیا تیری

ایک اور مشکل دور

شادی کے وقت پروین عبداللہ گرلز کالج میں بطور لیکچرار پڑھا رہی تھیں۔ ساتھ ہی وہ ’’گوشۂ چشم‘‘ کے نام سے جنگ اخبار میں کالم بھی لکھ رہی تھیں۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ہی پروین کو اندازہ ہونے لگا کہ نصیر علی کی والدہ کافی سخت گیر عورت ہیں۔ یہ بھی پتا چلا کہ نصیر علی نے گھر والوں اور خصوصاً اپنی والدہ کو مشکل سے راضی کیا تھا۔ اُن کی والدہ اپنے ملٹری ڈاکٹر بیٹے کے لیے کسی اونچے گھرانے کی بہو لانا چاہتی تھیں مگر بیٹے کی خواہش کے سامنے انھیں ہتھیار ڈالنا پڑے تھے۔ یہ انکشاف پروین شاکر کے لیے بڑا تکلیف دہ تھا بلکہ انھیں insult محسوس ہونے لگی۔ پھر پروین نے اپنی زندگی میں سوائے پڑھنے لکھنے کے اور کوئی کام نہیں کیا تھا۔ انھیں گھر کے کام کاج پسند نہ تھے، نہ انھوں نے کبھی سیکھنے کی کوشش کی۔ یہ بات پروین کے والدین نے نصیر علی کی والدہ کو شادی سے پہلے بتا بھی دی تھی۔ مگر تب جواب ملا کہ شادی کے بعد سب لڑکیاں سیکھ جاتی ہیں۔

اب جس گھر میں پروین بیاہ کر آئیں، وہاں مشترکہ خاندانی نظام تھا اور گھر کے تمام کام کاج کی نگرانی اور انتظام نصیر کی والدہ ہی کرتی تھیں۔ شادی کے بعد چند دن ہی گزرے کہ پروین کو باورچی خانے کی راہ دکھا دی گئی۔ یہاں تمام خواتین میں کام تقسیم تھا، ناشتا پروین کی جیٹھانی کی ذمے داری تھی، دوپہر کا کھانا نند بناتیں اور رات کا کھانا اب پروین کی ذمے تھا۔ جو کھانے پکانے میں بالکل کوری تھیں۔ مجبوری میں کھانا بنانے کی ترکیبوں سے کام چلانا شروع کیا لیکن روزانہ کوئی بیس روٹیاں بنانا اس نازک شاعرہ کے لیے بڑا محنت طلب کام ہوتا۔ پھر رات گئے برتن دھونے کے بعد بستر نصیب ہوتا۔ تھکن سے چُور وجود لیے جب بیڈ روم میں داخل ہوتیں تو یہی فکر ستائے رکھتی کہ صبح جلدی اٹھنا اور کالج جانا ہے۔ ناشتا کرنے کے لیے میز پر آنا پڑتا تھا، دوسری صورت میں بھوکا کالج جانا پڑتا، کیونکہ یہی اس گھرانے کا دستور تھا۔

جیسے تیسے دن گزرنے لگے تھے لیکن پروین کے اشعار کہنے اور مزید علم حاصل کرنے کی پیاس اب بھی ویسی ہی تھی۔ اب انھوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سسرالیوں کی جانب سے بڑی مخالفت ہوئی، جیسے ہمارے ہاں عموماً ہوتی ہے کہ اب مزید پڑھ کر کیا کرنا ہے؟ مگر پروین کے اندر کی ضدی لڑکی ابھی زندہ تھی۔ یہاں نصیر علی کو کریڈٹ دینا پڑے گا کہ وہ اس معاملے میں ہمیشہ پروین کے ساتھ کھڑا رہا۔

تو 1980 میں، شادی کے تین سال بعد، پروین نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی لسانیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر پی ایچ ڈی بھی کیا، اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں تھا۔ وہ کسی امریکی یونیورسٹی میں پڑھنے کے خواب دیکھ رہی تھیں اور آگے چل کر یہ خواب بھی سچ کر دکھایا۔ انھوں نے امریکا کے ٹرینٹی کالج سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن لوٹیں۔

زندگی کے اتار چڑھاؤ

شادی کے بعد مشترکہ خاندانی نظام میں خود کو ایڈجسٹ کرنا پروین کے لیے بڑا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ وہ سوچتی رہتیں کہ کب وہ دن آئے گا جب وہ اپنی مرضی سے سوئے اور جاگے گی۔ اپنے شوہر کے ساتھ کسی الگ مقام پر گزارے لمحات کو پروین نے زندگی کا سب سے یادگار اور خوشگوار دور قرار دیا ہے۔

یہ شادی کے ابتدائی دن تھے، جب ان کے شوہر نصیر علی کا کراچی سے ایبٹ آباد میں تبادلہ ہوا تھا۔ ایک پُرفضا اور خوبصورت مقام پر، چاروں طرف صنوبر کا جنگل، سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور بہتے چشمے، کالج کی چھٹیاں اور آلودگی سے پاک ٹھنڈی ہوائیں، یہی تو پروین کو چاہیے تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ اب اسے بھی اپنا تبادلہ ایبٹ آباد میں کروا لینا چاہیے۔ خوبصورت مناظر میں اس کا وجود موسم بہار کی طرح کھل اٹھا تھا۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے خوشیوں کے موسم بھی ہوا کے جھونکوں کی طرح ہوتے ہیں۔ جو چند گھڑیوں کے لیے بس چھو کر گزر جاتے ہیں۔

نصیر علی کے بڑے بھائی کا اچانک انتقال ہو گیا، اُس کی امی کا اصرار بڑھنے لگا کہ وہ جلد از جلد واپس کراچی تبادلہ کرائے۔ ایک فرماں بردار بیٹے کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک سال بعد ہی نصیر کو کراچی آنا پڑ گیا۔ یوں ایبٹ آباد میں قدرتی حُسن کی رنگینیوں اور اپنے شوہر کے ساتھ من پسند زندگی گزارنا اب پروین کے لیے ممکن نہیں رہا۔

ساس کی سخت مزاجی اور پروین کی آگے سے آگے بڑھنے اور مزید دنیا دیکھنے کی آرزوئیں بھی ان کی ازدواجی زندگی میں مسائل پیدا کرتی رہیں۔ وہ ساس کی تلخ باتوں کو سننے کے باوجود تو تکار سے گریز کرتی تھیں لیکن یہ ناگوار رویہ ان کے لیے مستقل درد سر بنا رہا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ وہ ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی آئیں۔ میاں بیوی کے درمیان اب فاصلے بڑھنے لگے۔ نصیر ہر صورت پروین کے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس لیے خاندان کے کچھ لوگوں نے صلح کی راہ نکال لی، طے پایا کہ پروین الگ گھر میں رہے گی۔ یوں والدین کے گھر کے قریب ہی ایک کرائے کا مکان لیا گیا اور دونوں میاں بیوی وہاں رہنے لگے۔

پروین کی شادی کو تین سال ہونے کو تھے۔ ایک روز لیڈ ی ڈاکٹر نے اسے خبر سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے، دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا نام ’’شفا‘‘ رکھا جائے گا اور اگر لڑکا پیدا ہوا تو مراد علی۔

‏20 نومبر 1979 کو پروین کے ہاں بیٹا پیدا ہوا لیکن تب نصیر ان کے ساتھ موجود نہیں تھا، وہ دن بعد اسپتال آیا جس پر پروین بڑی رنجیدہ تھیں۔ انھیں لگ رہا تھا جیسے نصیر کو اپنے بیٹے اور بیوی سے کوئی غرض ہی نہیں۔ بیٹے کی پیدائش کے بعد امید بندھی کہ شاید پروین اور اس کے سسرال میں چلنے والی ناراضی کم ہو جائے لیکن ایسا نہ ہوا۔

پروین کو کالج جانے کے لیے اب بچہ اپنے والدین کے گھر چھوڑنا پڑتا۔ امجد اسلام امجد جنہیں پروین امجد بھائی کہہ کر پکارتی تھیں، انہوں نے پروین کو ماں بننے پر مبارکباد دی۔ اس پر پروین نے خط کے جواب میں لکھا کہ

ہاں امجد بھائی! یہ دور ہے تو بہت خوبصورت مگر اس کی اذیتیں بھی بہت ہیں۔

ہمت والی پروین

تمام تر حالات کے باوجود پروین ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھیں۔ اب انھوں نے مقابلے کا امتحان دینے کی بھی ٹھان لی تھی۔

نصیر علی میں آگے بڑھنے کا جذبہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس نے ملٹری کی ملازمت چھو ڑ دی اور سوشل سیکیورٹی کے ادارے میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہ بچے کو بھی سرکاری اسکول میں پڑھانے پر اصرار کرتا تھا۔ پروین کو نصیر کے خیالات سے اتفاق نہیں تھا، وہ ترقی کی سیڑھیاں چڑھتے رہنا چاہتی تھی، اس کی خواہش تھی کہ مراد علی کو بہترین اسکول سے تعلیم دلائی جائے، جس کے لیے انھوں نے پلاننگ بھی کر رکھی تھی۔ تب پروین کے مزاج میں بھی ایک عجیب تبدیلی آئی۔ انھوں نے ایک جگہ اعتراف کیا کہ طالبات جب ان کے لیکچر پر توجہ نہیں دیتی تھیں تو انھیں لگتا تھا وہ دیواروں سے باتیں کر رہی ہے۔ تب پروین شاکر نے فیصلہ کیا کہ انھیں سی ایس ایس کا امتحان دے کر فیلڈ چینج کر لینی چاہیے۔

اب پروین اور نصیر ریل کی گاڑیوں کے دو پہیوں کی طرح تھے جو ساتھ ساتھ تو چل رہے تھے لیکن دونوں کے بیچ ہمیشہ سوچ کا فرق برقرار رہتا تھا۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ پروین اوپر اٹھتی جا رہی تھی جبکہ نصیر اس کے ساتھ پرواز کرنے کو تیار نہیں تھا بلکہ شاید اس میں اتنی طاقت بھی نہ تھی۔ سارے انسان ایک جیسی صلاحیتوں کے کہاں ہوتے ہیں؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ نصیر نے اسے شاعری سے کبھی نہیں روکا، نہ اس کی پڑھائی میں رکاوٹ ڈالی، یہاں تک کہ وہ مشاعروں میں بھی پروین شاکر کے ساتھ جانے پر تیار ہو جاتا تھا۔ لیکن فرق یہ تھا کہ وہ زندگی میں قناعت پسندی کا قائل تھا، یعنی جو مل گیا کافی ہے، مگر پروین کے اندر تو ایک عقابی روح تھی جو بلند سے بلند پرواز پر خوش ہوتی تھی، خواہ اس کے لیے اسے کتنی ہی جان کیوں نہ لڑانی پڑے۔

بالآخر، وہ دن بھی آگیا جب پروین نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا۔ یہاں بڑا دلچسپ واقعہ ہوا۔

سی ایس ایس کے ایک پیپر میں خود پروین کی کتاب ’’خوشبو‘‘ کے بارے میں سوال آ گیا۔ اس میں کتاب کا تنقیدی جائزہ لینے کا کہا گیا تھا۔ اس واقعے کے بارے میں پروین نے معروف ادیب آصف فرخی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہنستے ہوئے بتایا کہ

میں نے اپنی کتاب پر اتنا سخت تبصرہ لکھا کہ شاید میرے کسی مخالف نے بھی ایسا نہ لکھا ہوگا، کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی یہ پہچان لے کہ میں اپنی ہی کتاب پر تبصرہ کر رہی ہوں، اتنی کڑی تنقید کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں خود اچھی خاصی ناقد بھی بن سکتی ہوں۔

پروین شاکر کا کمال دیکھیے کہ اس پورے بیج میں انھوں نے دوسری پوزیشن لی تھی۔ بہرحال، جب انھیں ٹریننگ کے لیے لاہور جانا پڑا تو بیٹے کے معاملے پر دونوں میاں بیوی میں اختلافات ہونے لگے۔ نصیر کو فکر تھی کہ بیٹے کا کیا بنے گا؟ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بیٹا اتنے دن ماں کے بغیر اپنے نانا نانی کے پاس رہے۔ پروین بیٹے کو اپنے ساتھ لاہور لے گئیں لیکن کچھ ہی دن گزرے اور بچہ کراچی میں پروین کے والدین کے پاس چھوڑ دیا گیا۔

اب پروین کی اگلی منزل تھی اسلام آباد۔ اسے محکمہ کسٹم میں ڈپٹی کلکٹر تعینات کیا گیا تھا۔ نصیر اسلام آباد جانے کے فیصلے سے خوش نہیں تھا، ایک بار پھر میاں بیوی ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے تھے اور اس بار صلح کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا تھا۔ بالآخر شادی کے گیارہ سال بعد، دونوں کی راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔

نصیر نے پروین کو طلاق دے دی۔ ہر عورت کی طرح پروین نے بھی اس صدمے کو اندر تک محسوس کیا

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

لیکن نصیر علی نے کچھ ہی عرصے بعد اپنا نیا گھر بسا لیا اور ایک گہری تنہائی پروین کا مقدر ہو گئی۔ معروف ادیب ممتاز مفتی پروین شاکر کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ

پروین شاکر کی بد قسمتی یہ ہے کہ وہ نواز د ی گئی ہے اور جو لوگ نواز دیے جاتے ہیں اکیلا پن ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے اور خوشیاں اُن سے چھین لی جاتی ہیں۔

ایک بھیانک پیش گوئی

دلی کے ایک معروف جوتشی کی پیش گوئی تو کہیں پیچھے ہی رہ گئی۔ رفاقت جاوید نامی خاتون جو پروین کی اچھی دوست تھیں، ا ن کے شوہر دلی میں پاکستانی سفارت خانے میں سفیر ہوا کرتے تھے۔ یہی رفاقت جاوید اپنی کتاب ’’پروین شاکر، جیسا میں نے دیکھا‘‘ میں لکھتی ہیں کہ

دلی میں دست شناسی اور علم نجوم کے ایک ماہر تھے، جو ’’جوتشی چوہان‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ بیرون ملک سے بھی لوگ اپنی قسمت کا حال جاننے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ دلی کے نواحی علاقے میں ان کی شان دار کوٹھی تھی، جہاں ہر وقت اگر بتی کی بھینی بھینی خوشبو ہوتی۔ پروین شاکر جب مشاعرے میں شرکت کے لیے دلی گئیں تو اس جوتشی سے بھی ملیں۔ پروین نے ان کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلا دیے، چوہان نے ان سے تاریخ پیدائش پوچھی، پھر بولا، ’’بہت چھوٹی عمر لکھوا کر لائی ہو، صرف چار کتابیں ہی لکھ سکو گی، میں خون ہی خون دیکھ رہا ہوں تمہارے اردگرد۔ روڈ حادثے میں ڈرائیور تو موقع پر ہی مر جائے گا۔‘‘

رفاقت جاوید لکھتی ہیں کہ پروین کو اگرچہ ایسے لوگ شعبدہ باز لگتے تھے اور وہ ان پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھیں لیکن جوتشی کے الفاظ پر ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ انھوں نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے، اس پیش گوئی کو غلط ثابت کرنے کے لیے پروین شاکر نے پانچویں کتاب کے لیے اپنے پرانے کلیات جمع کرنے شروع کر دیے۔ کتاب تو چھپ گئی مگر حقیقت میں وہ چار کتابیں ہی لکھ پائیں۔ انھیں زندگی نے نئی تخلیق کا واقعی موقع نہیں دیا۔

پروین کو جب روڈ حادثے کے بعد اسپتال لایا گیا تو ان کا پورا وجود خون میں لت پت تھا اور ڈرائیور موقع پر ہی چل بسا تھا۔ جوتشی کی پیش گوئی بالکل سچ ثابت ہوئی تھی!

پروین شاکر کے اعزازات

اٹھارہ سال کے مختصر کیریئر میں پروین شاکر کے چار مجموعے خوشبو، صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ انہیں اپنی شان دار ادبی خدمات پر درجنوں ایوارڈز سے نوازا گیا۔ ‏1985 میں انہیں ڈاکٹر محمد اقبال ایوارڈ اور 1986 میں یو ایس آئی ایس ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ ان انہیں فیض احمد فیض انٹرنیشنل ایوارڈ اور ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ سے بھی نوازا گیا۔

فیض احمد فیض سے یاد آیا کہ ’’خوشبو‘‘ کا ٹائٹل صادقین جیسے نامور آرٹسٹ نے بنایا تھا۔ فیض صاحب ایک دن صادقین سے ملنے آئے تو دیکھا ان کی میز پر پروین کی کتاب ’’خوشبو‘‘ رکھی تھی۔ فیض صاحب نے ساڑھے تین سو صفحات کی کتاب ہاتھ میں اٹھا کر دیکھی اور مسکرا کر کہا کہ میں نے تو عمر بھر میں اتنی نظمیں نہیں کہیں۔ صادقین نے جواب دیا، پروین شاکر زیادہ کہتی ہے مگر اچھا کہتی ہے۔

الم ناک زندگی، کرب ناک موت

جو اس دنیا میں آتا ہے وہ جانے ہی کے لیے آتا ہے، پروین نے بھی ایک دن جانا تھا مگر اس نے بہت جلدی کر دی۔ ہاں! مگر اسے اتنا یقین تھا اس کے کہے الفاظ اس کے وجود کی گواہی دیتے رہیں گے

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھُلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر کی تدفین ایچ 8 قبرستان اسلام آباد میں کی گئی۔ انہیں افتخار عارف، مستنصر حسین تارڑ اور دیگر ادیبوں اور کچھ عزیزوں نے قبر میں اتارا۔ پروین شاکر کے بیٹے مراد علی نے بتایا کہ تدفین میں ان کے والد ڈاکٹر نصیر علی بھی شریک ہوئے تھے۔ وہی والد جنہوں نے پروین سے راستے جدا کر لیے تھے، لیکن کوئی بات تو تھی جس نے انہیں اپنی سابقہ اہلیہ کے جنازے میں شرکت پر مجبور کر دیا تھا۔ شاید پروین نے اسی موقع کے لیے یہ الفاظ کہے تھے۔

وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی

آج بھی پروین کے چاہنے والوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انھیں صرف بیالیس سال، ایک مہینہ اور دو دن کی مختصر سی زندگی ملی، لیکن اتنی تھوڑی سی عمر میں پروین نے وہ نام اور مقام بنایا جس کے لیے سو سال کی زندگی بھی تھوڑی ہوتی ہے۔

تیرے پیمانے میں گردش نہیں باقی ساقی
اور تری بزم سے اب کوئی اٹھا چاہتا ہے

شیئر

جواب لکھیں