وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے ایک متنازع اور تشویش ناک بیان دیا ہے۔ ان کے اس بیان نےملک میں سیاسی عداوتوں کی بھڑکتی آگ پر مزید تیل چھڑکا ہے۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کی سیاست وہاں لے آئے ہیں اب عمران خان اور ہم میں سے کسی ایک ہی کا وجود باقی رہنا ہے۔ جب ہمارے وجود کی نفی ہوگی تو ہم ہر حد تک جائیں گے، پھر ہم یہ نہیں سوچیں گے کہ کیا جمہوری ہے، کیا نہیں، کیا اصولی ہے کیا غیراصولی۔

رانا ثنا کا انٹرویو

ایک اور انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا ہے، ہم سے بھی جو بن پڑا ہم کریں گے۔ معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت آگے جاچکے ہیں۔ اب جو بھی نتیجہ ہو اس کا ذمے دار صرف عمران نیازی ہوگا۔

رانا ثنا اللّٰہ کے بیان کے محرکات کیا ہیں؟

وفاقی وزیر داخلہ کے یہ بیانات مسلم لیگ ن کی فرسٹریشن اور رانا ثنا کے دل میں عمران خان کے خلاف پکنے والے لاوے کی عکاسی کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کو عمران خان کے دور میں منشیات کیس میں گرفتار کرکے لاہور کی کیمپ جیل میں رکھا گیا تھا۔ رانا ثنا کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ بھی عمران خان کو گرفتار کرکے اسی جیل میں رکھیں گے۔ وزیرداخلہ کی یہ خواہش پاکستان میں سیاسی انتقام کی اسی روایت کا اظہار ہے جو اس ملک میں کئی دہائیوں سے رائج ہے۔

عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے وقت کہا تھا کہ وہ حکومت سے نکالے جانے کی صورت میں سیاسی مخالفین کے لیے زیادہ خطرناک ہوں گے۔ مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی مخالفین ان کی اس بات کا اس وقت مذاق اڑایا کرتے تھے مگر وقت نے ثابت کردیا کہ عمران خان واقعی میں ان کے لیے زیادہ خطرناک ہوچکے ہیں۔ عمران خان کی مقبولیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ ضمنی الیکشن میں عمران خان کی ریکارڈ کامیابی نے یہ ثابت کردیا تھا کہ عوام کی اکثریت پی ڈی ایم جماعتوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں خاص طور پر مسلم لیگ ن شدید جھلاہٹ کی شکار ہے۔ پیٹرول، بجلی اور دیگر چیزوں کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے اس نے ن لیگ کی حکومت کو عوام میں مزید غیرمقبول کردیا ہے۔ ایسے میں اگر الیکشن ہو جائیں تو ن لیگ کو بری طرح شکست کا سامنا ہوسکتا ہے۔ عمران خان کے ہوتے ہوئے ن لیگ کو اپنا سیاسی وجود خطرے میں نظر آرہا ہے، اس کے علاوہ پچھلے 5 سال میں ن لیگ کی قیادت کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ذمے دار وہ عمران خان ہی کو سمجھتے ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جن  کی وجہ سے عمران خان کی گرفتاری اور نااہلی مسلم لیگ ن کا اولین ہدف بنی ہوئی ہے۔ اس میں ہونے والی مسلسل تاخیر سے لیگی رہنماؤں کی فرسٹریشن میں اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔

عمران خان کی گرفتاری کی سرتوڑ کوششیں

عمران خان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک میں آپریشن کے دوران جس طرح شیلنگ کی گئی اس نے بھی حکمرانوں کی نیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کے بعد عمران خان کی اسلام آباد پیشی کے دوران زمان پارک میں ان کے گھر پر جس طرح حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی گئی وہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ہماری سیاست میں عدم برداشت اور مخالفین پر ریاستی اداروں کی مدد سے ہر قانونی و غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے کی روایت بھی ختم نہیں ہوسکی ہے۔

Raftar Bharne Do
زمان پارک میں پولیس کا پی ٹی آئی کارکنوں پر لاٹھی چارج

چیئرمین تحریک انصاف بہت عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت اور ان کے سرپرست ان کی جان لینا چاہتے ہیں۔ عمران خان اس سلسلے میں ایک لندن پلان کا ذکر کرتے ہیں۔ 18 مارچ کو اسلام آباد میں پیشی کے بعد بھی عمران خان نے اس الزام کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کی عدالت میں ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ لیگی رہنما کے تازہ بیان نے عمران خان کے خدشاست کو تقویت پہنچائی ہے۔

رانا ثنا کے بیان پر عمران خان کا ردعمل

عمران خان نے وزیر داخلہ کے بیان کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی سے ایک صحافی نے پوچھا کہ وزیر داخلہ کہتے ہیں یا ہم رہیں گے یا وہ رہیں گے اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ میری خواہش ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک رہے گا تو رانا ثنا نہیں رہیں گے۔

Share.

Leave A Reply