عمران خان گرفتار ہوئے، ملک میں بھونچال آ گیا۔ کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے لاہور تک ہر شہر میں احتجاج ہوا۔ کئی مظاہرین تو حساس ترین علاقوں میں بھی گھس گئے۔ پھر ایسے مناظر دیکھنے کو ملے، جو بہت افسوس ناک تھے۔

لیکن میڈیا نے کچھ نہیں دکھایا، وہ دن میں بھی بلیک آؤٹ کرتا رہا۔ ہاں! مٹھائیاں بانٹنے کی وڈیوز ضرور چلتی رہیں۔

جب انٹرنیٹ بند ہوا اور لوگ اپنے پیاروں کی خیریت کے لیے پریشان تھے، میڈیا تب بھی خاموش رہا۔

لیکن مزے کی بات دیکھیں، عمران خان کو جس کیس میں گرفتار کیا گیا، القادر ٹرسٹ کیس، اس میں ایک اہم کردار ملک ریاض کا ہے۔

لیکن یہ تو ہمارے میڈیا کی یونیورسل پالیسی ہے کہ وہ ملک ریاض کا نام نہیں لینا۔

تو جہاں وہ خبریں چھپاتا رہا، وہیں اِس مقدس گائے کو بھی بچاتا رہا۔

بھئی واہ، کیا صحافت ہے؟

صرف ایک دن نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں میڈیا کتنا آزاد ہے؟

شیئر

جواب لکھیں