Author: رفتار
القاعدہ سے کہیں پہلے بننے والے اس گروپ کا نام تھا الذوالفقار اور اس کے ماسٹر مائنڈز تھے بھٹو کے بیٹے مرتضیٰ اور شاہنواز۔ الذوالفقار کافی پُر اسرار تنظیم تھی، جس پر ہمیشہ راز کے پردے پڑے رہے۔
کالا دھن رکھنے والوں کے لیے حوالہ نیٹ ورک کے کچھ بونس فائدے بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً حوالہ نیٹ ورک انفارمل یا ان رجسٹرڈ ہونے کی وجہ سے ان کا کالا پیسہ کسی سسٹم پر شو نہیں ہوتا۔
ایک سیٹ کی پارٹی سے وزیرِ اعظم بننے تک عمران احمد خان نیازی کا جیت سے پرانا یارانہ ہے بلکہ اگر پرائیوٹ لائف کو ہٹا کر دیکھا جائے تو عمران خان کا شمار دنیا کے کامیاب ترین انسانوں میں کیا جا سکتا ہے۔
ایک زرداری سب پہ بھاری
آصف زرداری پاکستان کے صدر بنےتو ایوان صدر میں ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘ کا نعرہ پوری قوت سے لگا۔ ماننا پڑے گا کہ ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ آصف زرداری کا ملک پر بڑا احسان ہے۔
لوگ ذوالفقار علی بھٹو کا دورِ ظلمت دیکھ چکے تھے، بلکہ اُس میں اتنا کچھ دیکھ چکے تھے کہ انہیں بھٹو کا ’’عدالتی قتل‘‘ بھی بہت چھوٹا لگا۔
نواز شریف کون؟
ایک بات ایسی ہے، جو ان کے بارے میں سب سے زیادہ بولی اور سنی جاتی ہے: ’’کھاتا ہے، پر لگاتا بھی ہے‘‘۔ نواز شریف کی سیاسی زندگی میں ناکامیاں زیادہ ہیں یا کامیابیاں، فیصلہ آپ نے کرنا ہے!
کمرۂ عدالت کا ماحول گرم ہے۔ کوئی بھی گھڑی فیصلے کی ہو سکتی ہے۔ اتنے میں ٹربیونل کا صدر سخت لہجے میں سوال کرتا ہے: کیا یہ خیالات تم نے ابو الاعلیٰ مودودی کی کتابوں سے لیے ہیں؟ کٹہرے میں کھڑے سید قطب کا چہرہ پُر سکون ہے، جواب ملتا ہے: ہاں! میں نے مولانا مودودی کی کتابوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ٹربیونل کے صدر کے ماتھے پر بل پڑ جاتے ہیں، پوچھتا ہے: یہ بتاؤ، تمہاری دعوت اور ابو الاعلیٰ کی دعوت میں کیا فرق ہے؟ جواب اسی لہجے میں ملتا ہے: لا فرق (یعنی کوئی فرق نہیں)…
پاکستان میں بی سی سی آئی بند کرنے کو آج تک ایک بڑی سازش سمجھا جاتا ہے۔ لوگ تو جو کہہ رہے تھے، یہاں تو میڈیا تک نے یہی کہا۔
ہم نے کوشش کی ’’ایوب خان‘‘ کی زندگی کے اہم پہلو آپ کے سامنے غیر جانبدار انداز میں رکھ سکیں۔ ایوب خان ہیرو تھے یا ولن؟ اس کا فیصلہ تو آپ کو کرنا۔
پاکستان ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔ پوری قوم کی نظریں عمران خان پر ہیں یہاں تک کہ وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی بھی۔ پرائم منسٹر کی جانب سے ورلڈ چیمپیئن ٹیم کو استقبالیہ دیا جاتا ہے جہاں ایک غیر ملکی صحافی نواز شریف سے کہتا ہے کہ اگر عمران خان سیاست میں آئیں تو وہ آپ کی ٹیم کے لیے رائٹ مین ہوں گے۔ نواز شریف جواب دیتے ہیں: میں نے تو بہت پہلے عمران خان کو مشورہ دیا تھا، لیکن انھوں نے منع کر دیا، پتہ نہیں کیوں؟ لیکن میری آفر اب بھی برقرار ہے۔ نواز شریف…
